Jaun Elia 2 Lines Poetry – Amazing Love Shayari

Sad Poetry is sharing All Time Great Poetry Sir Jaun Elia 2 Lines Poetry collection from جون ایلیاء شاعری۔ Best Jaun Elìa Sad 2 Lines Poetry.

If you like our  Jaun Elia 2 Lines Poetry collection,than share this “Jaun Elia 2 Lines Poetry” with your friends and family and also with Jaun Elia Fans and with your Friend also share it on Facebook.

Thanks For Reading Jaun Elia 2 Lines Poetry . Keep Sharing!

Also Read :- 300+ Urdu Romantic Poetry For Lovers – Best Love Shayari

Jaun Elia 2 Lines Sad Poetry

کیا سنائیں تمہیں حکایتِ دل
ہم کو دھوکا دیا گیا جاناں
جون ایلیاء

مل رہی ہو بڑے تپاک کے ساتھ
مجھ کو یکسر بھلا چکی ہو کیا
جون ایلیا

میں اگر کہہ بھی دوں، “چلے جاؤ”
تم میرا اعتبار مت کرنا
جون ایلیاء

خاموشی سے ادا ہو رسمِ دوری
کوئی ھنگامہ برپا کیوں کریں ہم
جون ایلیاء

سنو ! تم رد کیے گئے ہو۔۔
تم مر کیوں نہیں جاتے؟
جون ایلیاء

ہم نے حِصّے میں صِرف غَم پایا
آج یُوں قِسمتیں ہوئیں تقسیم۔!
جون ایلیاء!

ستم یہ ہے کہ تمہارا نام لے کر
  میری ہنسی اڑائی جا رہی ہے
جون ایلیاء

اے شخص میں تیری جستجو سے
بیزار نہیں ہوں تھک گیا ہوں
جون ایلیا

آپ روتے ہیں یاد کر کے مجھے
چھوڑیے نا مذاق کی باتیں
جون ایلیاء

کتنی دل کش ہو تم کتنا دلجو ہوں میں
کیا ستم ہے کہ ہم لوگ مر جائیں گے
جون ایلیاء

Jaun Elia Best Two Lines Shayari

میری بانہوں میں بہکنے کی سزا بھی سن لے
اب بہت دیر میں آزاد کروں گا تجھ کو
جون ایلیاء

نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم
بچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم
جون ایلیاء

یہ بہت غم کی بات ہو شاید
اب تو غم بھی گنوا چکا ہوں میں
جون ایلیاء

جاتے جاتے آپ اتنا کام تو کیجے مرا
یاد کا سارا سر و ساماں جلاتے جائیے
جون ایلیاء

میں جو ہوں جونؔ ایلیا ہوں جناب
اس کا بے حد لحاظ کیجئے گا
جون ایلیاء

تمہاری یاد میں جینے کی آرزو ہے ابھی
کچھ اپنا حال سنبھالوں اگر اجازت ہو
جون ایلیاء

خرچ چلے گا اب مرا کس کے حساب میں بھلا
سب کے لئے بہت ہوں میں اپنے لئے ذرا نہیں
جون ایلیاء

شوق ہے اس دل درندہ کو
آپ کے ہونٹ کاٹ کھانے کا
جون ایلیاء

میری ہر بات بے اثر ہی رہی
نقص ہے کچھ مرے بیان میں کیا
جون ایلیاء

میں ہواؤں سے کیسے پیش آؤں
یہی موسم ہے کیا وہاں جاناں؟
جون ایلیاء

کـیا اجازت ہـو ایک بات کہوں
وہ ، مگر ، خیر کوئی بات نہیں
(جـون ایـلـیـاء)

زندگی کس طرح بسر ہو گی
دل نہیں لگ رہا محبت میں
                   جون ایلیاء

ہم کہاں اور تم کہاں جاناں
ہیں کئی ہجر درمیاں جاناں
جون ایلیاء

کیا اجازت ہے؟ ایک بات کہوں
وہ مگر خیر کوئی بات نہیں
جون__ایلیاء

خوب ہے شوق کا یہ پہلو بھی
میں بھی برباد ہو گیا تو بھی
جون ایلیاء

Jaun Elia 2 Lines Sad Poetry For Lovers

لہجے  سے اُٹھ رہی تھی داستانِ  درد
چہرہ بتا رہا تھا کہ سب کُچھ گنوادیا
جون اہلیاء

جانیے اس سے نبھے گی کس طرح
وہ خدا ہے میں تو بندہ بھی نہیں
جون ایلیا

اب تم کبھی نہ آؤ گے یعنی کبھی کبھی
رخصت کرو مجھے کوئی وعدہ کیے بغیر
جون ایلیاء

مستقل بولتا ہی رہتا ہوں
کتنا خاموش ہوں میں اندر سے
جون ایلیاء

آپ روتے ہیں یاد کر کے مجھے
چھوڑیے نا مذاق کی باتیں
جون ایلیاء

اُس کو دیکھا تو مر گیا اُس پر
وہ نہ مِلتا تو اور جی لیتا
جون ایلیاء

وہ بھی منزل تلک پہنچ جاتا
اس نے ڈھونڈا نہیں پتا میرا
جون ایلیاء

نام لیتی ہو بدتمیز میرا…!
تم مجھے جان کیوں نہیں کہتی۔۔۔!!!
جون ایلیاء

گھر سے جس روز میں چَلا ہوں گا
دل کی دِلیّ مَچل گئی ہوگی
جون ایلیاء

دیکھیے اب نا یاد آئیے آپ
آج کل آپ سے خفا هوں میں
جون ایلیاء

جو حاصل واقعہ ہے، یہ ہے
بس خود میں نہیں سما سکے ہم
جون ایلیاء

بڑھ رہا ہوں زوال کی جانب
دل میں زخمِ کمال ہے، تا حال
جون ایلیاء

کیا کہا….!  یاد کر رہے تھے تُم
ہائے بھول گئے تھے کیا
جون ایلیاء

بھیج کر تمہیں اپنی ہنستی ہوئی تصویر
غرور تمہارا خاک میں ملا سکتا ہوں
جون ایلیاء

سہولت سے گزر جائیو میری جان
کہیں جینے کی خاطر مر نا رہیو
جون ایلیاء

Read More :- Chai Poetry In Urdu 300+ Best Love Chai Shayari

Jaun Elia Sad Shayari

دلاسہ ہم کو دینے کا
تماشا خوب کرتے ہو
    جون ایلیاء

سامنے اس کے بدل جاتے ہیں
لفظ ہیں میرے منافق سارے
(جون ایلیاء)

میری راتیں مجھے اکثر
سلانا بھول جاتی ہیں
جون ایلیاء

میں تمھارے ہی دم سے زندہ ہو
مر ہی جاؤں جو تم سے فرصت ہو
جون ایلیاء

تیرا لہجہ بتا گیا مجھ کو
تیرے دل میں عارضی تھا میں
جون ایلیاء

کیا ستم ہے کہ اب تری صورت
غور کرنے پہ یاد آتی ہے
جون ایلیاء

یوں کیجئے زہر دیجئے۔
محبت تو آپ سے دی نہیں جاتی
جون ایلیاُء

اے شخص میں تیری جستجو سے
بیزار نہیں ہوں تھک گیا ہوں
جون ایلیا

ایک خواب تھا دیروز اک فُسون تھا امروز
اور کسی بھی فردا میں اب نہیں ملیں گے ہم
جون

اب جنون ہے اپنا گوشہ گیرِ تنہائی
سو دیار و صحرا میں اب نہیں ملیں گے ہم
جون

حرف زَن نہ ہوں گے لب جاوداں خموشی میں
ہاں کسی بھی معنی میں اب نہیں ملیں گے ہم
جون

زندگی شتاباں ہے شہرِ خفتہ کی جانب
شہرِ شور و غوغا میں اب نہیں ملیں گے ہم
جون

اب دیر باوروں کا کیا کیجیے سُراغ
وہ زُود باورانِ اداب داں چلے گئے
جون

رونق گرانِ کوچۂ جاناں چلے گئے
سامانیانِ بے سروساماں چلے گئے
جون

اس کا بدن عجب ہَوس انگیز ہے کہ ہے
ہم تو میاں چلے بھی گئے، ہاں چلے گئے
جون

کر تہنیت قبول، ترے آستانے سے
دشوار تر تھے جو، بہت آساں چلے گئے
جون

تھیں رونقیں کبھی جو شبوں کی وہ اب کہاں
خوابیدہ گردِ شہرِ نگاراں چلے گئے
جون

آج کہیں فرست میں بیٹھ کر
اپنے زندہ ہونے پر رویا جاۓ
جون ایلیاء

‏اُف وہ زلفیں،وہ نگاہیں،وہ ہنسی
یوں ڈرانا کوئی ضروری تھا
جون ایلیاء

برائے نام بنامِ شبِ وصال یہاں
شبِ فراق منا لوں اگر اجازت ہو

زلف کو اس کی بھلا مجھ سے شکایت کیوں ہے
جو   پریشاں   تھا   اسے   میں نے پریشاں لکھا
جون ایلیاء

‏ہم جیسے دلبروں کو جہنم میں ڈال کے
بیٹھے رہو، بہشت کو ویران کئے ہوۓ
جون

ایسی لچک یونہی نہیں بخشی گئی اسے
نسبت ہے کچھ ضرور کمر کو کماں کے ساتھ
جون ایلیا سرکار

جرم میں ہم کمی کریں بھی تو کیوں
تم  سزا  بھی  تو  کم  نہیں  کرتے
جون ایلیاء

اے شخص میں تیری جستجو سے
بے زار نہیں ہوں ,تھک گیا ہوں
جون ایلیاء

تم تو نکلے تھے ڈھونڈنے ہم کو
     راہ اپنی بھٹک گۓ تم تو
جون ایلیإء

خود ہی وہ آ گیا تھا دل کے قریب
ہم ہیں مارے ہوئے سہولت کے
جون ایلیاء

سب عادتیں چھوڑ سکتا ہوں
تمھارے لئے ‘تمھارے سوا
        جون ایلیا۶

کیا کہیں، کچھ نہیں ہے کہنے کو
ہائے! کیا غم ملا ہے سہنے کو
جون ایلیاء

سب عادتیں چھوڑ سکتا ہوں
تمھارے لئے ‘تمھارے سوا
        جون ایلیا۶

کیا ہے جو بدل گئی ہے دنیا
میں بھی تو بہت بدل گیا ہوں
جون ایلیاء

اس کو نفرت تھی بے وفاؤں سے
کیسے خود سے نبھا رہا ہوگا
جون ایلیاء

دلِ مرحوم کو خُدا بخشِ
بڑی رونق لگائے رکھتا تھا
جون ایلیاء

تمہاری یاد میں جینے کی آرزو ہے ابھی
کچھ اپنا حال سنبھالوں اگر اجازت ہو
جون ایلیاء

مجھ کو مجھ سے جدا کیا تو نے
میرا بن  کے  یہ  کیا  کِیا  تو  نے
    جون_ایلیاء

ہم نے اس شہرِ دین و دولت میں
مسخروں کو جناب ہی لکھا
جون ایلیاء

نہیں ملا ہے کوئی تجھ سا آج تک مجھ کو
پھر یہ ستم الگ ہے کہ ملا تو بھی نہیں
جون ایلیاء

مُجھے بھیجا تھا دُنیا دیکھنے کو
مَیں اِک چہرے کو تکتا رہ گیا ہوں
جون ایلیاء

وہ مجھے زندگی سمجھتا ہے
یعنی اسے میرا اعتبار نہیں
جون_ایلیاء

ہاں پھر اک روز تجھے ___ یاد بہت آئیں گے
ہم کلیجے سے ______ ترے درد لگانے والے
جون ایلیاء

اب تو مدتوں سے شب و روز روبرو
کتنے دن گزر گئے دیدار کو ترے
جون ایلیاء

مستقل بولتا ” ہی ” رہتا ہوں
کتنا خاموش ہو میں اندر سے
جون ایلیاء

بانٹ ڈالا ہے زندگی نے ہمیں
اپنے حصے میں ہم نہیں آۓ
جون ایلیاء

میں تو اب شہر میں کہیں بھی نہیں
کیا مرا نام بھی لِکھا ہے کہیں
جون ایلیاء

جو یہاں سے  کہیں نہ جاتا تھا
وہ یہاں سے ــ چلا گیا ہے کہیں
جون ایلیاء

خود ہی وہ آ گیا تھا دل کے قریب
ہم ہیں مارے ہوئے سہولت کے
جون ایلیا

آپ ، آنسو پلا رہے ہیں مُجھے
دیکھئے! روزہ دار تھا میں تو
سرکار

میں کیا ہوں بس ملالِ ماضی
اُس شخص کو حال چاہیے تھا
جون ایلیاء

اتنی جلدی چھوڑ کر.  چل دئیے صاحب
ابھی ہم اجڑے ہیں.  مرے تو نہیں
جون ایلیاء

شاخِ اُمید جل گئی ہو گی
دل کی حالت سنبھل گئی ہو گی
جون ایلیاء

ہم نشیں اک تیرے نہ ہونے سے
بڑی مشکل سے دن گزررہے ہیں

          جون ایلیاء

مر گئے خواب سب آنکھوں کے
ہر طرف ہے_____گلہ حقیقت کا
جون ایلیاء

میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں
جون ایلیاء

ﮨﻮ ﺑﺰﻡ ﺭﺍﺯ ﺗﻮ ﺁﺷﻮﺏ ﮐﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ۔
ﺷﺮﺍﺏ ﺗﻠﺦ ﺳﮩﯽ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ۔
ﺟﻮﻥ ﺍﯾﻠﯿﺎء

میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں
جون ایلیاء

عشق تو سر ہی مانگتا ہے میاں
عشق پے کربلا کا سایہ ہے
جون ایلیاء

اپنے سب یار کام کر رہے ہیں
اور ہم ہیں کہ نام کر رہے ہیں
جون ایلیاء

کیا کہا عشق جاودانی ہے
آخری بار مل رہی ہو کیا
مرشد جون

یہ جو میری جان گئی ہے محبت میں
یہ تیرا صدقہ دیا ہے نظر اتاری ہے
جون ایلیاﺀ

کتنا دل جو ہوں میں کتنی دلکش ہو تم
کیا ستم ہے کہ ہم نے بھی مرجانا ہے
جون ایلیا

حالتِ حال کہ سبب حالتِ حال ہی گئی
شوق میں کچھ نہیں گیا شوق کی زندگی گئی
جون

جرم میں ہم کمی کریں بھی تو کیوں
تم  سزا  بھی  تو  کم  نہیں  کرتے
جون ایلیاء

یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا
ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا
جون ایلیاء

اے شخص میں تیری جستجو سے
بے زار نہیں ہوں ,تھک گیا ہوں
جون ایلیاء

رویا ہںوں تو اپنے دوستوں میں
پر تجھ سے تو ہنس کے ہی ملا ہںوں
جون ایلیا ء

بات یہ ہے کہ لوگ بدل گئے ہیں
ظلم یہ ہے کہ وہ مانتے بھی نہیں
جون ایلیاء

قابلِ  رحم  ہیں  وہ  دیوانے
جن کو حاصل نہیں ہیں ویرانے
سرکار جون ایلیاء

وفا ٬ اِخلاص ٬ قُربانی ٬ مُحبت
اب اِن لفظوں کا پیچھا کُیوں کریں ہم
جون ایلیاء

میں لے کے دل کے رشتے گھر سے نکل چکا ہوں
دیوار و در کے رشتے دیوار و در میں ہوں گے
جون ایلیاء

یہ پیہم تلخ کامی سی رہی کیا
محبت زہر کھا کر آئی تھی کیا
جون ایلیاء

کیا ہوئے صورت نگاراں خواب کے
خواب کے صورت نگاراں کیا ہوئے
جون ایلیاء

رائیگاں وصل میں بھی وقت ہوا
پر ہوا خوب رائیگاں جاناں
جون ایلیاء

مری شراب کا شہرہ ہے اب زمانے میں
سو یہ کرم ہے تو کس کا ہے اب بھی آ جاؤ
جون ایلیاء

مرہم ہجر تھا عجب اکسیر
اب تو ہر زخم بھر گیا ہوگا
جون ایلیاء

زمانہ تھا وہ دل کی زندگی کا
تری فرقت کے دن لاؤں کہاں سے
جون ایلیاء

رکھو دیر و حرم کو اب مقفل
کئی پاگل یہاں سے بھاگ نکلے
جون ایلیاء

شاید وہ دن پہلا دن تھا پلکیں بوجھل ہونے کا
مجھ کو دیکھتے ہی جب اس کی انگڑائی شرمائی ہے
جون ایلیاء

دو جہاں سے گزر گیا پھر بھی
میں رہا خود کو عمر بھر درپیش
جون ایلیاء

چارہ سازوں کی چارہ سازی سےدرد بدنام تو نہیں ہو گا
ہاں دوا دو مگر یہ بتلا دومجھ کو آرام تو نہیں ہو گا
جون ایلیاء

پھر اس گلی سے اپنا گزر چاہتا ہے دل
اب اس گلی کو کون سی بستی سے لاؤں میں
جون ایلیاء

ایک قتالہ چاہئے ہم کو
ہم یہ اعلان عام کر رہے ہیں
جون ایلیاء

نئی خواہش رچائی جا رہی ہے
تری فرقت منائی جا رہی ہے
جون ایلیاء

اب نہیں ملیں گے ہم کوچۂ تمنا میں
کوچۂ تمنا میں اب نہیں ملیں گے ہم
جون ایلیاء

اب کہ جب جانانہ تم کو ہے سبھی پر اعتبار
اب تمہیں جانانہ مجھ پر اعتبار آیا تو کیا
جون ایلیاء

اک عجب آمد و شد ہے کہ نہ ماضی ہے نہ حال
جونؔ برپا کئی نسلوں کا سفر ہے مجھ میں
جون ایلیاء

گھر سے ہم گھر تلک گئے ہوں گے
اپنے ہی آپ تک گئے ہوں گے
جون ایلیاء

اپنے سبھی گلے بجا پر ہے یہی کہ دل ربا
میرا ترا معاملہ عشق کے بس کا تھا نہیں
جون ایلیاء

اب خاک اڑ رہی ہے یہاں انتظار کی
اے دل یہ بام و در کسی جان جہاں کے تھے
جون ایلیاء

خدا سے لے لیا جنت کا وعدہ
یہ زاہد تو بڑے ہی گھاگ نکلے
جون ایلیاء

ہم ہیں مصروف انتظام مگر
جانے کیا انتظام کر رہے ہیں
جون ایلیاء

جان من تیری بے نقابی نے
آج کتنے نقاب بیچے ہیں
جون ایلیاء

وفا اخلاص قربانی محبت
اب ان لفظوں کا پیچھا کیوں کریں ہم
جون ایلیاء

   آپ نے جو کہا، سب سہی، سب بجا
میں بُرا، میں خراب، آج سے معذرت
جون ایلیاء

جون تم تو ہر کام میں سستی کرتے تھے
             مرنے میں  جلدی کیوں کی

تم جب آٶ گی کھویہ ہوا پاٶ گی مجھے
میری تنھائی میں خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں
مرشد جون ایلیاء

عجب اک طور ہے جو ہم ستم ایجاد رکھیں
کہ نہ اس شخص کو بھولیں نہ اسے یاد رکھیں
جون ایلیاء

بے دِلی کیا یونہی دن گزر جائیں گے
صرف زندہ رہے ہم تو مر جائیں گے
جون ایلیاء

خالی خالی جو گھر تھا اک دم بھر گیا
اداس بیٹھا وہ شخص کل رات مرگیا
جون ایلیاء

اپنے ایمان کی قسم کھاتی تھی
ہائے  وہ بے ایمان کہیں کی
جون_ایلیاء

کون کہتا ہے عمر بھر نباہ کیجئے
بس آئیے بیٹھیےفنا کیجیے تباہ کیجیے
(جون ایلیاء)

سب میرے بغیر مطمئن ہیں
میں سب کے بغیر جی رہا ہوں
جون ایلیا

ہوس کا مجھ میں اک دوزخ تھا لیکن
شب اول میں بالکل سرد نکلا
جون

ھے نا___مجھے غلط فہمیاں
تُجھے جب بھی لکھا ،اپنا لکھا
جون ایلیاء

Best Two Lines Sad Shayari

میں تمہیں روز یاد کرتا ہوں
کیا تمہیں ہچکیاں نہیں آتی
جون ایلیاء

کتنے جھوٹے تھے ہم محبت میں
تم بھی زندہ ہو ہم بھی زندہ ہیں
    جون ایلیاء

زمانہ تھا وہ دل کی زندگی کا
تری فرقت کے دن لاؤں کہاں سے
جون ایلیاء

پھر اس گلی سے اپنا گزر چاہتا ہے دل
اب اس گلی کو کون سی بستی سے لاؤں میں
جون ایلیاء

دو جہاں سے گزر گیا پھر بھی
میں رہا خود کو عمر بھر درپیش
جون ایلیاء

مُجھے بھیجا تھا دُنیا دیکھنے کو
مَیں اِک چہرے کو تکتا رہ گیا ہوں
جون ایلیاء

یہ بہت غم کی بات ہو شاید
اب تو غم بھی گنوا چکا ہوں میں
جون ایلیاء

کل کا دن ہائے کل کا دن اے جونؔ
کاش اس رات ہم بھی مر جائیں
جون ایلیاء

جاتے جاتے آپ اتنا کام تو کیجے مرا
یاد کا سارا سر و ساماں جلاتے جائیے
جون ایلیاء

چھوڑ کر مجھ کو بہر طور چلا جاتا ہے
میں جسے چاہوں وہ لاہور چلا جاتا ہے

گنوائی کس کی تمنا میں زندگی میں نے
وہ کون ہے جسے دیکھا نہیں کبھی میں نے
جون ایلیاء

گہے وصال تھا جس سے تو گاہ فرقت تھی
وہ کوئی شخص نہیں تھا، وہ ایک حالت تھی
جون ایلیاء

میں نے کہا کہ دیکھ یہ میں، یہ ہوا، یہ رات
اس نے کہا کہ میری پڑھائی کا وقت ہے

بات یہ ہے کہ لوگ بدل گئے ہیں
ظلم یہ ہے کہ وہ مانتے بھی نہیں
جون ایلیاء

تم نہ آنا میری عیادت کو
تیرا احسان مار ڈالے گا
جون ایلیاء

‏چند سانسوں کا کھیل  باقی ہے
اور پھر آپ ___ رونے والے ہیں
جون ایلیاء

ﮐﯿﺎ ﮐﮩﺎ!  ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﻣُﺠﮭﮯ
ﺍِﺱ ﮐﺎ ﻣَﻄﻠﺐ ﮬﮯ ﺳﻮ ﻟِﯿﺎ ﺗُﻢ ﻧﮯ
جون ایلیاء

ایلیا جون کچھ نہیں کرتا
صرف خوشبو میں رنگ بھرتا ہے

کیا کہا دهواں پسند ہے انہیں
تو کیا آگ لگا لوں خود کو
جون ایلیاء

دلاسہ ہم کو دینے کا
تماشا خوب کرتے ہو
جون ایلیاء

بس تمہارا ہی آسرا تھا مجھے
اب تمہارا بھی آسرا نہ رہا
جون ایلیاء

Here We End this amazing collection of Jaun Elia 2 Lines Poetry.

1 thought on “Jaun Elia 2 Lines Poetry – Amazing Love Shayari”

Leave a Comment

Exit mobile version